عالمی منڈیوں میں تیل کی فراہمی اور قیمتوں میں تبدیلیوں پر کڑی نگرانی جاری ہے۔سرمایہ کار تیل کے نرخ، جغرافیائی سیاست اور معاشی توقعات کے تناظر میں محتاط ہیں۔

تازہ پیش رفت کے بعد حکومتی سطح پر ایندھن اخراجات کے اثرات پر غور ہورہا ہے۔

عالمی قیمتیں، پیداواری سطح اور سفارتی حرکات کے باعث غیر یقینی برقرار ہے۔گزشتہ جیوپولیٹیکل تبدیلیاں رسد کی فکریں کم کرچکی ہیں مگر خدشات باقی ہیں۔

امریکا، چین اور یورپی معیشتیں تیل کی عالمی طلب کو بڑا پیمانہ فراہم کررہی ہیں۔ماہرین کے مطابق تیل اب بھی معاشی اور صنعتی سرگرمیوں کا مرکزی ستون رہے گا۔